عمران خان کے جانے کے ایک ماہ بعد ہی 40 سالہ تجربہ کار سیاستدانوں کی حکومت ٹھس ہو کر بیٹھ گئی، ابھی تو انہوں نے اور کوئی کام کیا ہی نہیں، کوئی نئے منصوبے، کوئی نئے اقدامات اٹھائے ہی نہیں اور حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم سے کام نہیں ہو رہا معیشت تباہ ہو رہی ہے، ڈالر 202 روپے سے بڑھ چکا ہے، اسٹاک مارکیٹ گر رہی ہے ہم عوام کو سبسڈیز نہیں دے سکتے.
40 سالہ تجربہ کار سیاہ دان کی ٹیم، نااہل عمران خان کی صرف ایک پٹرولیم و بجلی پہ دی گئی سسبڈی ہی مینج نہ کر پائی اور اسی پہ پوری حکومت ڈاوں ڈول ہوگئی یہاں تک کہ آرمی چیف اور نیشنل سیکیورٹی سے منتیں ترلے کرنے پہ اتر آئے کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرکے قیمتیں بڑھانے میں مدد کریں خزانہ خالی ہے سبسڈیز نہیں دے سکتے...
جبکہ
اسی قومی خزانے سے نااہل عمران خان ملکی تباہ حال اداروں کو بھی منافع بخش بنا رہا تھا.
اسی قومی خزانے سے کسانوں کو بھی سبسڈیز اور سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں.
اسی قومی خزانے سے اورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے تھے.
اسی قومی خزانے سے تنخواہوں اور پینشنز میں اضافے بھی کیے جا رہے تھے.
اسی قومی خزانے سے عمران ڈالر کو ہر ممکن حد تک مستحکم اور اسٹاک ایکسچینج کو اشیاء کی سب سے بہترین اسٹاک ایکسچینج بنا رہا تھا.
نااہل عمران اسی قومی خزانے سے کرونا کے خلاف ہر ممکن اقدامات اٹھا کر قوم کو بھی بچا رہا تھا.
اسی قومی خزانے سے کرونا میں پوری قوم کا مفت علاج اور مفت ویکسین بھی لگوا رہا تھا.
کرونا میں عوام کو بجلی کے بلوں پہ ریلیف بھی دے رہا تھا.
کرونا میں اپنی ملکی معیشت بچانے اور ملک میں کارخانے جاری رکھنے کے لیے مختلف سیکٹرز کو سبسڈیز بھی دے رہا تھا.
احساس و احساس راشن پروگرام بھی چلا رہا تھا، جس میں کرونا اور کرونا کے بعد بھی غریبوں کو 12 سے 13 ہزار روپے اور سبسڈائز راشن بھی دے رہا تھا.
ملک کے مختلف علاقوں میں پناہ گاہیں بنا کر غریبوں اور مزدورں کو مفت کھانا اور رہائش بھی فراہم کر رہا رہا تھا.
قومی صحت کارڈ پہ ہر فرد کو دس لاکھ تک کا مفت علاج بھی کروا رہا تھا.
پاکستان میں ایک ساتھ کئی ڈیمز اور بجلی کے منصوبوں پر بھی کام ہو رہا تھا.
پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بھی کئی منصوبہ جات پر کام کیا جا رہا تھا.
ملک کے اندورونی اور بیرونی قرضے بھی اتارے جا رہے تھے.
ملک کے مختلف علاقوں میں سستی سڑکیں اور قومی شاہرائیں بھی بن رہی تھیں.
کراچی اور بلوچستان میں وفاقی گرانٹ سے متعدد منصوبے بھی چل رہے تھے.
کالجز، یونیورسٹیز اور مدارس کے طلباء کو اسکل لرننگ اور تعلیمی اسکالرشپس بھی مل رہی تھیں.
کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو کام کاروبار کے لیے قرضے بھی دیئے جا رہے تھے.
اسی قومی خزانے سے اپنا گھر اسکیم کے تحت سستے گھر بھی بنائے جا رہے تھے.
اسی قومی خزانے سے آئی ٹی سیکٹرز کو ٹیکس فری کرکے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹرز کو بھی ترقی دی جا رہی تھی.
اسی قومی خزانے سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے آنے والی کمپنیز کو بھی سبسڈیز دی جا رہی تھیں.
اسی قومی خزانے سے آئی ایم ایف کی بلیک میلنگ کو نظرانداز کرتے ہوئے نااہل عمران قوم کو مہنگی پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی سبسڈائز کرکے سستے میں دے رہا تھا... اس کے باوجود بھی جب وہ جا رہا تھا قومی خزانہ بھرا ہوا تھا.
دوستو بات تجربے کی نہیں نیت کی ہے، ترجیحات کی ہے، اگر نیت درست ہو، مقصد کچھ کرنے کا ہو تو پاکستان غریب نہیں ہے ہم اپنے اتنے وسائل رکھتے ہیں کہ ہم دنیا کی بہترین معاشی قوت بن سکتے ہیں لیکن جب اقتدار کا مقصد ہی محض ملک لوٹنا ہو، صحافیوں اور میڈیا کو نوازا ہو، بندر بانٹ کرنی ہو، سرکاری حج عمرے اور کابینہ و اتحادیوں سمیت لندن، امریکہ، برطانیہ اور سعودیہ کے دورے ہوں، اپنی کرپشن بچانا ہو، اغیار کی خوشنودی ہو تو بھرے ہوئے خزانے بھی چند دن میں خالی ہو جاتے ہیں اور نوبت بھیک مانگنے تک آجاتی ہے.

Comments
Post a Comment